مردو عورت کی نماز میں فرق - The Difference Between Male and Female Prayers

 

مردو عورت کی نماز میں فرق - The Difference Between Male and Female Prayers


مردو عورت کی نماز میں فرق

از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ

دعویٰ اہل السنۃ والجماعة:

مردو عورت کے طریقہ نماز میں فرق ؛ احادیث و آثار ، اجماع امت اور ائمہ اربعہ کے اقوال سے ثابت ہے۔


دعوی غیر مقلدین: 1: یونس قریشی صاحب لکھتے ہیں:

شریعت محمدیہ میں مردو عورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں بلکہ جس طرح مرد نماز پڑھتا ہے اسی طرح عورت کو بھی پڑھنا چاہیے۔ ( دستور المنتقی ص 151)


2: حکیم صادق سیالکوٹی صاحب لکھتے ہیں:

عورتوں اور مردوں کی نماز کے طریقہ میں کوئی فرق نہیں ... پھر اپنی طرف سے یہ حکم لگانا کہ عورتیں سینے پر ہاتھ باند ھیں اور مردزیر ناف اور عور تیں سجدہ کرتے وقت زمین پر کوئی اور ہیئت اختیار کریں اور مرد کوئی اور ... یہ دین میں مداخلت ہے۔ یادرکھیں کہ تکبیر تحریمہ سے شروع کر کے السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہنے تک عورتوں اور مردوں کے لئے ایک ہیئت اور شکل کی نماز ہے۔ سب کا قیام، رکوع، قومہ ، سجدہ، جلسہ استراحت، قعدہ اور ہر ہر مقام پر پڑھنے کی دعائیں یکساں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکور واناث کی نماز کے طریقہ میں کوئی فرق نہیں

بتایا۔ (صلوۃ الرسول ص 190، ص191)


3: مردو عورت کے طریقہ نماز میں کوئی فرق نہیں۔ (عورتوں کا طریقہ نماز از صلاح الدین یوسف، عورت اور مرد کے طریقہ نماز میں کوئی فرق نہیں از حافظ محمد ابراہیم سلفی)

دلائل اہل السنت والجماعت


Download & Read PDF Book

)مردو عورت کی نماز میں فرق – (The Difference Between Male and Female Prayers

مردو عورت کی نماز میں فرق - The Difference Between Male and Female Prayers

OR

Read Only

Post a Comment

0 Comments